چیچہ وطنی جنگل و ریسٹ ہاوس

چیچہ وطنی فاریسٹ ڈیویژن کے نام سے یہ معروف مصنوعی جنگل ہے جس کا شمار ملک کے بڑے جنگلات میں شمار ہوتا ہے.اس مصنوعی جنگل میں پہلی بار شجرکاری کا آغاز 1913-1914 میں انگریز دورِ حکومت میں ہوا تھا۔ اس جنگل کو جنگ عظیم کے قیدیوں سے لگوایا گیا جنکی بریکس بلاک نمبر 1 اور کوٹلہ ادیب شہید کے نزدیک موجود تھیں۔ اس جنگل کو لگانے کا بنیادی مقصد ریلوے کے انجنوں کے لیے لکڑی کا کوئلہ فراہم کرنا تھا۔ یہ جنگل تقریباً 11,531 ایکڑ (تقریباً 3,600 ہیکٹر) پر محیط ہے, 

یہ 25 کلو میٹر طویل جنگل چیچہ وطنی میں ایک طرف لاہور-کراچی ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ جبکہ اسکے دوسری جانب لوئر باری دوآب نہر واقع ہے۔ جنگل کو سیراب کرنے کے لیے لوئر باری دوآب نہر سے دو چھوٹی نہریں (ڈسٹری بیوٹریز) نکالی گئی ہیں۔

درختوں کی اقسام میں یہاں زیادہ تر شیشم (ٹاہلی) اور کیکر کے درخت پائے جاتے تھے،جو کوئلہ بنانے اور فرنیچر کے لیے بہترین سمجھے جاتے ہیں۔لیکن موسمیاتی تبدیلوں کے باعث اب شیشم اور کیکر کی جگہ یہاں پر سفیدا ، شاہتوت،اور دیگر درختوں سمیت ادویاتی پودوں نے لے لی ہے۔ جنگل میں موجود پھولوں اور چھاؤں کی وجہ سے شہد کی مکھیوں کی بڑی تعداد آتی ہے اور یہاں سے سالانہ اعلیٰ معیار کا شہد بھی تیار ہوتا ہے

چیچہ وطنی جنگلات میں شاہتوت کی موجودگی نے یہاں ریشم سازی کے لیے موزوں ماحول پیدا کیا لیکن جدید صنعتوں کے فروغ کے باعث اب چیچہ وطنی میں ریشم سازی بہت محدود ہو چکی ہے

ماحولیاتی فوائد کے حوالے سے یہ جنگل ماحول کی آلودگی کم کرنے، جنگلی حیات کے لیے پناہ گاہ، اور مقامی آب و ہوا کو معتدل رکھنے میں مددگار ہے۔ حال ہی میں چیچہ وطنی جنگل میں پودے لگانے کی مہمات کا انعقاد بھی ہوا ہے تاکہ جنگل کو مزید بڑھایا جائے اور ماحول کو بہتر بنایا جائے۔ 

جنگلی حیات، جیسے کہ گیدڑ، جنگلی سور، پورکوپائن (سیہہ) اور مختلف اقسام کے سانپوں کا مسکن ہے۔ البتہ بڑے جانور شیر،چیتے، ہاتھی، ہرن وغیرہ یہاں نہیں پائے جاتے

فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کے زیر انتظام اس جنگل میں ایک ریسٹ ہاوس بھی موجود ہے، یہ جگہ فطرت کے درمیان رہائش، آرام، اور مختصر سرکاری دورے کے لیے استعمال کی جاتی ہے، جہاں سرکاری افسران یا اجازت نامے کے ساتھ عام لوگوں کو بھی قیام کی سہولت مل سکتی ہے

ادھر لکھیں

ادھر لکھیں

ادھر لکھیں

ادھر لکھیں